ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، دونوں فریقین نے ہجرت اور نقل و حرکت کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششیں قابلِ ذکر ہیں، انہوں نے پاکستانی ہنرمند افراد اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
.jpg)
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی پیش رفت کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے قانونی ہجرت کے راستے مزید وسیع کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور امید ظاہر کی کہ یورپی یونین کے کمشنر کا دورہ پاکستان دونوں فریقین کے لیے عملی اور مفید نتائج کا باعث بنے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت ہجرت اور نقل و حرکت ایک اہم شعبہ ہے، ملاقات میں اس شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور قانونی ہجرت کے مواقع کو فروغ دینے سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
ملاقات میں ہونے والی گفتگو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت کے انتظام، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور پاکستانی ہنرمند و پیشہ ور افراد کے لیے قانونی نقل و حرکت کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے باہمی رابطوں کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے۔
