اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے حماس کے سینئر رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا اعتراف کرنے کے بعد، ایران نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا، جس میں اس قتل کو "دہشت گردی کی صریح کارروائی” قرار دیا گیا۔ایران کے نمائندے ایروانی نے اسرائیل کی جانب سے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ میںایران کے نمائندے ایروانی نے اسرائیل کے اقدامات کو ایران کی اکتوبر 2024 کی جوابی کارروائیوں کا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ردعمل "قانونی اور ضروری” تھا۔
ایران نے اسرائیل کی مبینہ جارحیت کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اس کے اقدامات کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے اور علاقائی امن کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کو ختم کرنے میں کردار ادا کرئے