چین نے تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے میں ملوث سات بڑی امریکی دفاعی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کی طرف سے تائیوان کے لیے فوجی امداد میں اضافے کے حالیہ اعلان کے بعد کیا گیا، جسے چین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔پابندی کی شکار امریکی کمپنیوں میں ایرکوم، ہڈسن ٹیکنالوجیز، انسٹیٹو، اوشینیئرنگ انٹرنیشنل، ریتھیون آسٹریلیا، ریتھیون کینیڈا، اور سارونک ٹیکنالوجیز شامل ہیں چین کے اندر ان کمپنیوں کے رئیل اسٹیٹ اور اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔جبکہ چینی شہریوں اور کاروباری اداروں پر ان کمپنیوں کے ساتھ تجارت یا تعاون کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
چینی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط پیغام قرار دیا ہے۔ چین نے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ غیر ملکی ہتھیاروں کی فروخت ناقابل قبول ہے اور علاقائی تنازعات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے حالیہ برسوں میں تائیوان کو فوجی امداد میں اضافہ کیا ہے، جس میں جدید ہتھیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا بتایا جاتا ہے، تاہم بیجنگ اس اقدام کو "ایک چین پالیسی” کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔