ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار معیشت مستحکم ترین معیشتوں میں شامل ہو گئی:بلوم برگ

0

پاکستان پر ڈیفالٹ کے منڈلاتے خطرات اب ختم ہو چکے ہیں۔۔۔ جو معیشت ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار تھی اب مستحکم معیشتوں میں شامل ہو گئی ہے۔۔۔

عالمی خبر رساں ایجنسی بلوم برگ نے پاکستانی معیشت پر اپنی رپورٹ جاری کر دی۔۔۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے معاشی حالات آج بین الاقوامی اداروں کی توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار معیشت آج مستحکم ترین معیشتوں میں شمامل ہے۔ مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین 4.1 فیصد کی سطح پر ہے۔

دسمبر 2023 میں مہنگائی کی شرح 29.7 فیصد کی سطح پر تھی۔

مالی سال 25 کے پہلے 6 ماہ میں معیشت استحکام سے مضبوطی کا سفر طے کر چکا ہے۔

مالی سال 25 کے پہلے 5 ماہ میں بیرون ممالک سے ترسیلات 15 ارب ڈالر کی مثالی سطح پر ہیں۔

مالی سال 25 کی تکمیل تک ترسیلات 35 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنے کی امید ہے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 22 سال بعد تیزی کا ایسا رجحان شروع ہوا جس کے بعد حصص بازار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان اسٹاک مارکیٹ منافع کے لحاظ سے دنیا کی دوسری اور ایشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن گئی ہے۔۔

سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر سے بہتر بنانے کے سفر میں شرح سود میں 9 فیصد کی تاریخی کمی کی گئی۔۔

پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے 13 فیصد کی سطح پر لایا گیا۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں برآمدات 10.52 اور درآمدات میں 6.11 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں برآمدات 10.52 فیصدبڑھیں جبکہ دسمبر 2024 میں سالانہ بنیادوں پر0.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں درآمدات 6.11 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

’اُڑان پاکستان‘ کے تحت آئندہ پانچ اور طویل مدت میں سنہ 2035 تک کے معاشی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ مثلاً ملکی شرح نمو میں اگلے پانچ سال میں چھ فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

آئندہ 10 سال میں یعنی 2035 تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا سائز ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اڑان پاکستان:
پہلا مقصد ایکسپورٹ یعنی برآمدات پر مبنی معیشت کو تشکیل دینا، دوسرا ملک میں ڈیجیٹل انقلاب لانا، تیسرا ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنا ہے۔ چوتھا سیکٹر جہاں توجہ دی جائے گی وہ انرجی اور انفراسٹرکچر کا ہے جبکہ پانچواں ایکویٹی پر مبنی معاشرے کی تعمیر ہے۔

اڑان پاکستان کے تحت سب سے پہلے برآمدات کو اگلے پانچ سال میں 60 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانا ہے۔

اڑان پاکستان کے تحت جی ڈی پی کی شرح نمو کو آئندہ پانچ برس میں چھ فیصد تک لے جانا ہے۔

اڑان پاکستان کے تحت آئندہ پانچ برس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فری لانسنگ انڈسٹری کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لیے سالانہ دو لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار کیے جائیں گے۔

اڑان پاکستان منصوبے میں آئندہ پانچ برس میں گرین ہاؤس گیسز میں 50 فیصد تک کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

قابل کاشت زمین میں 20 فیصد سے زائد اضافہ اور پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں دس ملین ایکٹر فٹ تک کا اضافہ کرنا ہے۔

توانائی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی کا حصہ دس فیصد تک بڑھانا ہے۔

’اڑان پاکستان‘ کی دستاویز کے مطابق غربت کی شرح میں 13 فیصد تک کمی لانا ہے۔

اڑان پاکستان منصوبے میں عوامی شراکت داری کے لیے پبلک، پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں: بلومبرگ

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.