فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن ) نے قومی اسمبلی کے گیارہویں سیشن میں ممبران اسمبلی، وزراء ،قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی حاضری رپورٹ جاری کردی۔۔۔
وزیراعظم نے کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ قائد حزب اختلاف نے چھ (75 فیصد) اجلاسوں میں شرکت کی۔
قومی اسمبلی کا گیارہواں سیشن 10 دسمبر 2024 سے 19 دسمبر 2024 (9 دن ) تک جاری رہا
رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 57 (18 فیصد) ارکان نے تمام آٹھ اجلاسوں میں شرکت کی۔۔۔ 54 ایم این ایز (17 فیصد) نے قومی اسمبلی کے 11ویں اجلاس کے دوران کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔۔
وفاقی وزراء میں سے قومی اسمبلی کے گیارہویں سیشن میں حاضری کے تناسب سے خواجہ آصف سب پر برتری لے گئے۔۔ تمام وفاقی وزراء میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی حاضری سب سے زیادہ (63 فیصد) تھی۔۔
پہلی نشست کے دوران سیشن کی سب سے زیادہ حاضری 203 (65 فیصد) ریکارڈ کی گئی۔۔۔ آٹھویں اور آخری نشست کے دوران سب سے کم حاضری 150 ایم این اے (48 فیصد) تھی
گیارہویں سیشن میں اسلام آباد سے منتخب ممبران قومی اسمبلی دوسرے علاقوں کے ممبران کے مقابلے میں زیادہ باقاعدہ تھے۔ تقریباً 257 ایم این ایز (82 فیصد) نے سیشن کے دوران کم از کم ایک نشست چھوڑ دی۔۔
سیشن کے دوران 91 ایم این ایز (35 فیصد) نے غیر حاضری کی چھٹی کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔۔ تقریباً 166 ایم این ایز (53 فیصد) نے بغیر کسی رسمی چھٹی کی درخواست کے ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔۔۔
اجلاس کے دوران وزراء کی متواتر غیر حاضری نے چیئر (ڈپٹی سپیکر) کو ہدایت کی کہ وزیر اعظم کو خط کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔۔۔ ممبران نے مطالبہ کیا کہ اگر وزراء آرڈر آف دی ڈے پر آئٹمز کے ذمہ دار موجود نہ ہوں تو کارروائی ملتوی کر دیں۔