بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے قومی نصاب میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے جنرل ضیاء الرحمان کو ملک کے بانی کے طور پر تسلیم کیا ہے، جو پہلے شیخ مجیب الرحمان کو "بابائے قوم” کے طور پر ماننے کے عمومی بیانیے سے ہٹ کر ہے۔نئی نصابی کتابوں میں جنرل ضیاء الرحمان کے 26 مارچ 1971 کو آزادی کے اعلان کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ شیخ مجیب الرحمان کا کردار بعد کے اقدامات تک محدود کر دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی قومی نصاب کے بورڈ کی جانب سے کی گئی، جس کا مقصد آزادی کے واقعات کی ایک نئی تشریح فراہم کرنا ہےماہرین کے مطابق، یہ اقدام "سیاسی اثرات کو متوازن کرنے” اور تاریخ کو مختلف نقطہ نظر سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔
یہ اقدام ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ہلچل کا باعث بن رہا ہےشیخ حسینہ کی سابق حکومت، جو شیخ مجیب الرحمان کے کردار کو اجاگر کرتی تھی، اس تبدیلی کی سخت ناقد رہی ہے۔جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے، یہ تبدیلی ان کے موقف کی توثیق ہے، جو ضیاء الرحمان کو آزادی کا حقیقی معمار سمجھتی ہے۔
1971 کی جنگ آزادی کے دوران دونوں رہنماؤں کے کردار پر دہائیوں سے بحث جاری ہے شیخ مجیب الرحمان کو آزادی کی تحریک کے روح رواں کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن وہ ابتدائی دنوں میں قید تھے۔جنرل ضیاء الرحمان نے عملی طور پر میدان میں قیادت فراہم کی، اور ان کا ریڈیو پر آزادی کا اعلان ایک کلیدی لمحہ تھا۔