اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ڈیڑھ لاکھ خالی اسامیاں ختم کر دی ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ بتدریج ان اداروں کو ختم کیا جائے، 60 فیصد خالی اسامیوں کو ختم کر دیا گیا ہے، یہ تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے۔خدمات سے متعلق اسامیوں کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، سرکاری اخراجات میں کمی کے اقدامات کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ جون 2024ء میں وزیرِ اعظم نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ سے متعلق تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ جن اداروں کی افادیت نہیں رہی انہیں برقرار رکھیں یا نہیں؟ اس پر کام ہو رہا ہے، 43 وزارتوں اور ان کے 400 محکموں کی افادیت اور انہیں برقرار رکھنے یا نہ رکھنے پر کام کر رہے ہیں، ایک وقت میں 5 سے 6 محکموں کو ختم کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ٹی او آرز کا مقصد وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی لانا تھا، کمیٹی کا اسکوپ 45 وزارتیں تھیں جس میں 400 منسلک ادارے تھے، پچھلے سالوں میں بھی یہ کوشش کی گئی کہ وفاقی حکومت کا حجم کم کیا جائے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت کا حجم بتدریج کم کریں، ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل آگے بڑھا رہے ہیں، اثاثوں اور انسانی وسائل کا کیا کرنا ہے اس پر بھی تفصیلی غور کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں وزیراعظم نے ایک کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی کو چیئر کرنے کا کہا گیا اس میں ایم این ایز اور ہائی لیول قیادت موجود ہے، کمیٹی کے ٹی او آرز کے مطابق اخراجات کم کرنے پر فوکس تھی، اداروں کی افادیت اور اثر کو دیکھنا تھا اس پیمانے پر رائٹ سائزنگ کی جانی تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کمیٹی کو 43 وزارتوں کو نظر ثانی کرنے کے اختیارات تھے، ان وزارتوں پر وفاقی حکوت کا 900 ارب کا خرچہ ہے، سب اکٹھا کرنے کی کوشش میں سب کچھ رہ جاتا ہے اس لیے مرحلہ وار دیکھا گیا، ہر فیز میں پانچ وزارتوں اور ماتحت اداروں کو آگے لایا گیا، ماتحت اداروں کی قلیدی قیادت کو بھی کمیٹی میں لے کر آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو سنا گیا اور کہا گیا اپنی کارگردگی ٹی او آرز کے مطابق بتائیں، ہر وزارت کے ساتھ کئی کئی گھنٹے لگے، جن سے متعلق فیصلہ کرنے جارہے ہیں ان کو مکمل سنا گیا۔