لاس اینجلس : امریکی ریاست لاس اینجلس کے جنگلات میں دو مقامات ہر لگنے والی آگ پھیلنے سے کم از کم 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ‘
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اعلان کیا ہے کہ وہ لاس اینجلس میں مدد کے لیے کیلیفورنیا نیشنل گارڈ کے مزید ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اب تقریبا 2500 فوجی متحرک ہیں، جو ‘آگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کے لوگوں کو محفوظ رکھنے میں مدد جاری رکھیں گے۔’
آگ کے پھیلاؤس سے متلق ‘ریڈ فلیگ وارننگ’ بدھ تک نافذ رہے گی جس کے تحت شمال اور شمال مشرق میں 35 سے 55 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
نئی ہواؤں کی وجہ سے ایل اے کاؤنٹی کا پورا علاقہ آگ کے خطرے میں پڑ جائے گا عملے کے ارکان اب بھی پالیساڈیز کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ’ اگرچہ اب آگ کے شعلے کم ہو گئے ہیں، لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔’
زمین پر آگ کی موجودگی کی نشاندہی کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران پولیس کا کہنا ہے کہ افسران لوگوں کے محفوظ انخلا، ٹریفک کنٹرول اور لوٹ مار کی روک تھام میں مدد کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ، اور یہ کہ خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔
لاس اینجلس میں کتوں اور امدادی عملے کی مدد سے ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
خیال ہے کہ 35 ہزار گھروں اور کاروباروں کی بجلی منقطع ہے۔
پولیس نے لوٹ مار کے واقعات میں 20 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ایک واقعے میں دو افراد کو فائر فائٹر کا روپ دھار کر گھروں میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پالیسڈس نامی مقام پر 20 ہزار سے زیادہ ایکڑ کا رقبہ آگ کی زد میں ہے۔ آگ پر قابو پانے میں فائر فائٹرز کو کچھ پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔
یہ آگ مشرقی حصے میں پھیل رہی ہے جس کے پیش نظر برینٹ ووڈ نامی علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
سنیچر تک یہ معلوم ہوا کہ لاس اینجلس کاؤنٹی میں ایک لاکھ 53 ہزار لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا کہا گیا جبکہ ایک لاکھ 66
ہزار لوگوں کو انخلا کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا۔
یہ امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آتشزدگی ہے جس میں ابتدائی اندازوں کے مطابق 150 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔
جن پراپرٹیز کو نقصان پہنچا ہے ان میں سے اکثر قیمتی ہیں۔ انشورنس کی مالیت آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ جن معروف شخصیات کے گھر تباہ ہوئے ان میں میل گبسن، ایڈم بروڈی اور پیرس ہلٹن شامل ہیں۔
اگرچہ بارشوں کی قلت اور تیز ہواؤں کے باعث آگ پھیل رہی ہے تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے حالات بدلے ہیں اور آگ لگنے کے امکان میں اضافہ ہوا ہے۔
لاس اینجلس کے شیرف رابرٹ لونا کا کہنا ہے کہ تفتیش کار ممکنہ وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
امریکہ میں آسمانی بجلی گِرنا آگ لگنے کی سب سے عام وجہ ہے تاہم متاثرہ علاقوں میں یہ نہیں ہوا۔ جبکہ اب تک آتشزنی کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ تیز ہواؤں کے سلسلے سے آگ پھیلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔
ایل اے کاؤنٹی فائر چیف انتھونی میرون کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور کم نمی کے باعث آگ کا خطرہ ’بہت زیادہ ہے۔‘