صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرین کی پارلیمنٹ، ورخوفنا رادا، کو مارشل لاء اور عام متحرک ہونے کی مدت میں مزید 90 دن کی توسیع کے لیے ایک باضابطہ تجویز پیش کی ہے۔ اگر پارلیمنٹ اس تجویز کو منظور کرتی ہے، تو یہ توسیع 8 فروری 2025 کو صبح 5:30 بجے (مقامی وقت) سے مؤثر ہوگی۔
مارشل لاء کا نفاذ پہلی بار 24 فروری 2022 کو روسی افواج کے بڑے پیمانے پر حملے کے فوراً بعد کیا گیا تھا۔ اس کے تحت سول آزادیوں پر پابندیاں جیسے کرفیو اور اجتماعات پر پابندی،فوجی نگرانی میں اضافہ اور اسٹریٹجک وسائل کی ترجیحی تقسیم قومی سلامتی اور دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
مارشل لاء کے ساتھ، "جنرل موبلائزیشن” کے اقدامات نے اہل شہریوں کی فوج میں بھرتی کو ممکن بنایا، جس سے جنگی محاذوں پر یوکرین کی دفاعی طاقت میں اضافہ ہوا۔
صدر زیلنسکی کا مؤقف
صدر زیلنسکی نے موجودہ حالات کو جواز فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کے تحفظ اور خودمختاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان دفعات کی تجدید جنگ کی غیر یقینی صورتحال اور یوکرین کے دفاعی عزم کا مظہر ہے۔
پارلیمنٹ کی منظوری کی توقع
ورخوفنا رادا نے ماضی میں ان اقدامات کی توسیع کی منظوری دی ہے، اور موجودہ حالات کے پیش نظر، اس تجویز کی منظوری کا امکان زیادہ ہے۔
- اگر منظور ہوا: یہ توسیع مارشل لاء کے نفاذ میں کسی قسم کی رکاوٹ کو روکے گی، اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو مستحکم رکھے گی۔
- مستقبل کی حکمت عملی: یہ فیصلہ یوکرین کی طویل مدتی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد جارحیت کے خلاف اپنے شہریوں اور سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔
عالمی ردعمل اور توقعات
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ تجویز ظاہر کرتی ہے کہ یوکرین روس کے ساتھ تنازع کی پیچیدگیوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اپنی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پیش رفت
پارلیمانی اجلاس اور قانون سازی کے عمل کے دوران مزید اپ ڈیٹس متوقع ہیں، جو یوکرین کی جنگی حکمت عملی اور روس کے ساتھ جاری تنازع کی سمت کا تعین کریں گی۔
محبت پھیلائیں۔