امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کو خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں، صدر بائیڈن نے معاہدے کے اگلے مرحلے کے اہداف پر روشنی ڈالی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کے مستقل خاتمے کی امید کا اظہار کیا۔
1. پائیدار امن کا راستہ
- صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگلے چھ ہفتے "مستقل جنگ بندی اور غزہ کے تنازعے کے پائیدار حل” کے لیے اہم ہوں گے۔
- مذاکرات میں کامیابی کی صورت میں، موجودہ جنگ بندی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
2. یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کا تبادلہ
- پہلے مرحلے میں، حماس امریکیوں سمیت 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔
- جواب میں، اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
3. انسانی امداد اور بحالی
- غزہ کے بے گھر افراد کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
- علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، جس میں اشیائے خورونوش، طبی سامان اور رہائشی مدد شامل ہیں۔
4. تعمیر نو اور مستقبل کی بحالی
- جنگ بندی کے بعد کے مراحل میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے منصوبے شامل ہوں گے۔
- اس کے علاوہ، ان یرغمالیوں کی باقیات کی بازیابی پر بھی توجہ دی جائے گی جو زندہ نہ رہ سکے۔
وائٹ ہاؤس میں بائیڈن کا خطاب
بائیڈن نے اس معاہدے کو "امید کی کرن” قرار دیتے ہوئے کہاکہ”یہ جنگ بندی معاہدہ صرف ایک وقفہ نہیں بلکہ ایک موقع ہے، ایک بہتر مستقبل کے لیے پہلا قدم۔”ہےانہوں نے قطر، مصر، اور اقوام متحدہ سمیت تمام ثالثوں کا شکریہ ادا کیا اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں کی کوششوں کو بھی سراہا۔
بائیڈن نے کہاکہ”ان پچھلے چند دنوں میں ہم نے نہ صرف اپنے اتحادیوں کے ساتھ بلکہ اندرون ملک بھی متحد ہو کر کام کیا۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس عمل کو کامیاب بنائیں۔صدر بائیڈن نے خطے کے لیے ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ”یہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، انسانی ہمدردی کی بحالی، اور ایک دیرپا امن کے لیے امید کی بحالی ہے۔”