وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے محصولات کے حوالے سے زیر التوا کیسز پر جائزہ اجلاس۔۔۔۔ وزیراعظم نے عدالتوں میں زیر سماعت اربوں روپے کے ٹیکس کیسز جلد نمٹانے کا حکم جاری کیا ہے۔۔۔۔
وزیراعظم نے کہا ٹیکس محصولات سے متعلق کیسز میں ایف بی آر کی جانب سے اچھی شہرت کے حامل وکلاء کی خدمات لی جائیں۔۔۔ ایف بی آر کے نظام میں اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔۔۔۔وزیرِ اعظم کی محصولات کے حوالے سے کیسز کا فرانزک آڈٹ کروانے کی ہدایت بھی کی گئی۔۔۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے افسران جو کمزور یا غلط بنیادوں پر کیسز بنانے میں ملوث پائے گئے انکو قرار واقعی سزا دی جائے۔۔۔ ایسے افسران جنہوں نے دیانتداری اور محنت سے میرٹ پر کیسز بنائے انکو خصوصی انعام سے نوازا جائے۔۔۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اچھی شہرت کے وکلاء کو پینل پر لانے سے جولائئ تا دسمبر 2024 ہائی کورٹ میں 586 کیسز جبکہ سپریم کورٹ میں 637 زیر التواء کیسز نمٹائے گئے۔۔۔۔ملک کی مخلتف عدالتوں اور ٹریبیونلز میں 4700 ارب روپے کے 33522 کیسز اس وقت التواء کا شکار ہیں۔۔ اعلی عدالتوں کے حوالے سے ایف بی آر میں لٹیگیشن مینجمنٹ ڈیش بورڈ تیار ہوچکا۔۔۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وزارت قانون و انصاف میں ٹیکس ٹریبیونلز مینجمنٹ سسٹم کی تیاری بھی حتمی مراحل میں ہے جس کا اجراء جلد کر دیا جائے گا۔۔۔ وزیرِ اعظم کی زیر التواء کیسز کو جلد نمٹائے جانے کیلئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔۔۔
اجلاس میں وفاقی وزیرِ برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصول اعوان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.