روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ماسکو میں ایک تاریخی 20 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاع، تجارت، اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے۔
- تجارتی اور اقتصادی تعاون:
- دونوں ممالک نے مغربی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کے لیے تجارت کو مقامی کرنسیوں میں انجام دینے پر زور دیا۔
- اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق ہوا، جس میں توانائی کے شعبے میں اہم شراکتیں شامل ہیں۔
- دفاعی شراکت داری:
- دفاعی تعاون کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، لیکن رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران روسی جدید فوجی نظام کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے۔
- ممکنہ مشترکہ دفاعی منصوبے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی زیر غور ہیں۔
- توانائی کے منصوبے:
- روس نے گیس پائپ لائنز اور جوہری منصوبوں میں تعاون کی توثیق کی۔
- توانائی کے شعبے میں جاری شراکت داری کو عالمی مارکیٹ میں مغربی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
- عالمی اور علاقائی اثرات:
- معاہدے سے یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کے مسائل پر دونوں ممالک کی صف بندی واضح ہوئی ہے۔
- شام میں جاری کشیدگی اور ایران کے حمایت یافتہ گروپوں پر اسرائیلی حملوں کے درمیان یہ معاہدہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اس معاہدے کو "دوطرفہ تعلقات کا نیا باب” قرار دیا اور اسے ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک سنگ میل کہاہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اقتصادی فوائد اور توانائی کے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے معاہدے کو موجودہ چیلنجوں کے باوجود دونوں ممالک کے لیے ایک موقع قرار دیا