کیپٹن عزیر محمود ملک شہید پاکستان کی تاریخ کا چمکتا ستارہ ہیں ۔ انہوں نے 11 اگست 2024 کو وادی تیرہ میں وطن دشمنوں کیخلاف بہادری سے لڑتے ہوئےجام شہادت نوش کیا۔
کیپٹن عزیر محمود ملک شہید کی شہادت کے وقت عمر 24 برس تھی۔ کیپٹن عزیر محمود ملک شہید نے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی چھوڑے۔
کیپٹن عزیر محمود ملک شہید کے والد نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن عزیر میرا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔کیپٹن عزیر محمود 13 جنوری 2000 کو پیدا ہوا۔کیپٹین عزیر نےاکتوبر 2018 میں پی ایم اے 142 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور 2020 میں ٹریننگ مکمل کی۔
والد کیپٹن عزیر محمود ملک شہید نے مزید کہا کہ میرے بیٹے کو انفنٹری جوائن کرنے کا بہت شوق تھا۔ کیپٹن عزیر نے بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ میرا بیٹا بہت ذہین تھا اور اس نے 500 سے زائد آفیسرز میں سے بیسک کورس ٹاپ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب چھٹی آیا تو اس نے داڑھی رکھ لی تھی۔ میرے پوچھنے پر عزیر نے جواب دیا کہ پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات داڑھی کے بغیر نہیں ہونی چاہئیے۔ عزیر نےدوران چھٹی والدہ سے بھی شہادت کی دعا کا کہا۔
والد نے مزید بتایا کہ والدہ نے کہا یہ بہت مشکل ہے تو عزیر نے کہا شہادت میرے مقدر میں ہے۔ عزیر مجھے خواب میں نظر آتا ہے جہاں اسے پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے تھے ۔میں اپنی فیملی کے سامنے رو بھی نہیں سکتا کیونکہ میں نے انکو سنبھالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ تمام شہداء چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔کیپٹن عزیر محمود ملک شہید پاکستان کی تاریخ کا چمکتا ستارہ ہیں۔