ممنوعہ اور فحش مواد تک رسائی:ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

0

ممنوعہ اور فحش مواد تک رسائی کے لئے حکومت نے ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔

حکومت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں مزید ترمیم کا فیصلہ کر لیا۔۔۔مجوزہ ترمیم کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔۔۔۔

ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کو آن لائن فحش اور ممنوعہ مواد کو ہٹانے کا اختیار ہو گا۔۔۔۔اتھارٹی کوممنوعہ یا فحش مواد تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار ہوگا ۔

اتھارٹی کو ممنوعہ مواد شیئر کرنے پر ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔۔۔۔

’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف بھی مجوزہ ترمیم میں شامل کی گئی ہے۔۔۔ مجوزہ تعریف میں سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز اور سافٹ ویئر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔۔

پیکا ایکٹ کے سیکشن 2 میں ایک نئی شق شامل کرنے کی تجویز ہے۔۔۔۔ مجوزہ ترمیم میں قانون میں بیان کردہ اصطلاحات کی تعریف بھی شامل ہے۔۔

’سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت دینے والے نظام کو چلانے والا کوئی بھی شخص‘ کو بھی نئی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔ تعریف میں ’ویب سائٹ‘، ’ایپلی کیشن‘ یا ’مواصلاتی چینل‘ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔۔۔۔

مجوزہ ترمیم کےتحت حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرے گی۔۔ اتھارٹی وفاقی اور صوبائی حکومت کو ’ڈیجیٹل اخلاقیات سمیت متعلقہ شعبوں‘ میں تجاویز دے گی۔۔ اتھارٹی تعلیم،تحقیق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرے گی

اتھارٹی صارفین کے آن لائن مفادات اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔۔ سوشل میڈیا مواد کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا اختیار ہوگا ۔

اتھارٹی پیکا ایکٹ کے تحت شکایات کی تحقیقات اورمواد تک رسائی کو ’بلاک‘ یا محدود کرنے کی مجاز ہوگی۔۔ اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے اپنے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ٹائم فریم کا تعین کرے گا۔۔۔

اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے پاکستان میں دفاتر یا نمائندے رکھنے کے لیے سہولت فراہم کرے گی

اتھارٹی چیئرپرسن سمیت 8 ممبران پر مشتمل ہو گی۔۔۔ وفاقی حکومت 3 سال کے لیے 5 اراکین کا تقرر کرے گی۔

سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین پی ٹی آئی اتھارٹی کے ممبر ہونگے۔۔۔ اتھارٹی میں تمام فیصلے اکثریتی اراکین کی رضامندی سے کیے جائیں گے

چیئرپرسن کو کسی بھی غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کرنے کا خصوصی اختیار ہوگا۔۔

چیئرپرسن کے فیصلے کی اتھارٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر ’توثیق‘ کرنا ہوگی۔۔ اتھارٹی کے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قواعد کی پاسداری کے لیے ’رجسٹرڈ‘ کرنے اور ان کے لیے شرائط طے کرنے کا اختیار ہو گا۔۔۔

اتھارٹی کے پاس حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک یا ہٹانے کا حکم دینے کا اختیار ہوگا ۔۔

مجوزہ ترمیم میں غیر قانونی مواد کی تعریف کو میں توسیع کر دی گئی

پیکا ایکٹ کے سیکشن 37 میں موجودہ ’غیر قانونی آن لائن مواد‘ کی تعریف میں اسلام مخالف، پاکستان کی سلامتی یا دفاع کے خلاف مواد شامل ہو گا۔۔۔غیر قانونی مواد کی تعریف میں امن عامہ، غیر شائستگی، غیر اخلاقی مواد، توہین عدالت یا اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کے لیے اکسانا شامل ہے۔۔۔

پیکا ایکٹ میں مجوزہ ترمیم میں غیر قانونی مواد کے16 اقسام کے مواد کی فہرست دی گئی ہے۔۔۔غیر قانونی واد میں گستاخانہ مواد، تشدد،فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینا شامل ہے۔۔۔

غیر قانونی مواد میں فحش مواد، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، جرائم یا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی جیسے جرائم کو شامل کیا جائے گا۔۔۔ غیر قانونی مواد میں جعلی یا جھوٹی رپورٹس، آئینی اداروں اور ان کے افسران بشمول عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف ’الزام تراشی‘، بلیک میلنگ اور ہتک عزت بھی شامل ہو گی۔۔۔۔

ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل 90روز میں کیس نمٹانے کے پابند ہونگے۔۔۔ ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکے گی۔۔

ٹربیونل فیصلے کو 60روز کے اندر اپیل سپریم کورٹ میں دائر کرنے کا اختیار ہوگا۔۔۔

ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔۔۔۔این سی سی آئی اے سائبر کرائم سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کریگی۔۔۔

ترمیم میں مزید تجویز دی گئی ہے کہ وفاقی حکومت تین سال کیلئے ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کا تقرر کریگی۔۔۔ڈی جی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کا مرتبہ آئی جی پولیس کے عہدے کے برابر ہوگا۔۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.