پی ٹی آئی نےتحریری مطالبات42دن میں دیئے،ہم سے7دن میں عدالتی کمیشن کی ڈیڈلائن دی،عرفان صدیقی

0

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کی پریس کانفرنس۔۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی خواہش پر مذاکرات شروع کئے گئے تھے اور اب خود پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیئے۔۔۔۔ ان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ پلٹ کر واپس آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔

عرفان صدیقی نے کہا بانی پی ٹی آئی تمام حربے آزما چکے ہیں۔۔۔ 26 نومبر اور سول نافرمانی کی تحریک کے نتائج بھی قوم کے سامنے ہیں۔۔۔

بانی پی ٹی آئی نے یہ سمجھا کہ معرکہ آرائی کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوا تو مزاکرات کیے جائیں۔۔۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد اپنا کردار ادا کیا۔۔۔

مزاکراتی دور ہوئے۔۔۔ 6 ہفتوں میں پی ٹی آئی نے تحریری گزارشات دیں۔۔۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مطالبات تحریری طور پر پیش کرنے میں 42 دن لگے اور ہم سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ 7 دن میں جوڈیشل کمیشن ان کی منشا کے مطابق بنا دیا جائے۔۔۔

ہم نے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کی ، سنجیدگی کے ساتھ بیٹھے۔۔۔آج جو کچھ انہوں نے آج کیا وہ بہت افسوسناک ہے

ہمیں کہ پہلے چور ڈاکو کہتے تھے۔۔۔انہوں نے ہمارے ساتھ ہاتھ ملایا۔۔۔ہم سمجھتے ہیں 28جنوری کوسات دن پورے ہونے ہیں

ہماری کمیٹی قائم ہے اگروہ مذاکرات نہیں کرماچاہتے تولکھ کردیں۔۔۔ تیسرے مزاکراتی دور کے اختتام پر اعلامیے کے مطابق 7 ورکنگ ایام میں حکومت اپنی تحریری گزارشات دے گی۔۔۔

ہمارے مطابق 28 جنوری کو 7 ورکنگ ڈیز مکمل ہوں گے۔۔۔ہم ان سے کہتے ہیں کہ ابھی نہ جائیں موسم ابھی سازگار ہونے دیں

ہم 28 تاریخ کی ڈیٹ دے چکے ہیں۔۔۔ساتوں پارٹیاں 28 کو اپنا موقف دیں گے۔۔۔ تمام جماعتیں نے اپنا موقف تقریباً تیار کرلیا ہے۔۔۔ ان کو 5 دن انتظار کرنا چاہیے۔۔۔ ان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے

عرفان صدیقی نے کہا ان کو اپنے بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ہٹ کر الگ سوچ بنانی چاہیے۔۔۔ سیاست میں مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔۔۔آپ بیٹھے اور فیصلہ کریں

ہم نے صبر و تحمل کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا۔۔۔

مزاکرات کےدوران بانی پی ٹی آئی نے ٹوئٹ کیااورہم پرتنقیدکی۔۔۔ جب سزاہوئی توپھربانی پی ٹی آئی نے ٹوئٹ کیااورپہلے سے سخت مئوقف اپنایا۔۔۔

ہماری خواہش ہے کہ مزاکرات کادروازہ بندنہیں ہوناچاہیے۔۔۔ ہم نے ان کی سول نافرمانی کی کال کو بھی رکاوٹ نہیں بننے دیا

ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا ہم أزادی اظہار رائے پر سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔۔۔وی لاگرز صحافت کے روپ میں وہ کر رہے ہیں جو صحافی نہیں کرتے ۔۔۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.