پاکستان میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران کے لئے مختص انڈومنٹ فنڈ پر آڈیٹر جنرل نے اعتراضات اٹھا دیئے۔۔۔ یہ فنڈ نگران حکومت نے قائم کیا تھا۔۔۔
3 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ پر آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ویلفیئر انڈومنٹ فنڈز کا قیام امتیازی سلوک ہے۔۔ پاکستان کا آئین یکساں انسانی بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔۔۔
چھوٹے گریڈ کے افسران اور کلریکل اسٹاف میں اس فنڈ پر شدید تحفظ ہے۔۔۔ صرف بیوروکریسی کے لیے ویلفیر انڈومنٹ فنڈز کا قیام دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ امیتازی سلوک ہے۔۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ویلفیر انڈومنٹ فنڈز کے لیے 3 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹ دی گئی۔۔۔فنڈز اکاؤنٹ میں مقرر تاریخ تک رقم جمع نہ کروانے سے مالی نقصان پہنچا۔۔۔
مقررہ وقت تک رقم جمع نہ کرانے سے 19 کروڑ 72 لاکھ سے زائد کا نقصان پہنچا۔۔۔ اشرافیہ کی ویلفیئر کے لیے 3 ارب کے فنڈز کا قیام قوانین کی عدم موجودگی میں ہوا۔۔۔
آڈیٹر جنرل نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کو تحفظات سے متعلق آگاہ کیا گیا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔۔
