سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت اگر کمیشن بنا دے تو ہمیں مزاکرات کو آگے بڑھانے میں کوئی اعتراض نہیں۔ حکومت نہیں چاہتی سچ عوام کے سامنے آئے۔ افسوس کہ اس وقت بھی پارلیمنٹ لولی لنگڑی، سینٹ نہ مکمل ہے تو استحکام کیسے آئے گا ۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ہدف ہے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے اگر حکومت مخلص ہے اور کچھ چھپانا نہیں چاہتی تو ان کے پاس اچھا چانس ہے، کمیشن نہیں بنتا تو مطلب دال میں کچھ کالا ہے، حکومت نے ہمیں کہا تھا 8 دن میں کمیشن سے متعلق فیصلہ کر لیں گے، اب یہ کہتے ہیں ہم نے 8 ورکنگ ڈیز کا کہا تھا،نیک نیتی سے جو کام ہوگا اس کے نتائج بھی آئیں گے اور اس میں اثر بھی ہوگا، ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، سنجیدہ قسم کے اندرونی اور بیرونی مسائل ہیں، ملکی مفاد میں پی ٹی آئی اور بانی نے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی سیٹ ایک سال سے خالی تھی، حکومت کی جانب سے ہٹ دھرمی تھی روایت یہی رہی ہے کہ یہ اپوزیشن کا حق ہے، جس طرح سے حکومت چلائی جا رہی ہے اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کڑی نگاہ رکھے گی۔