امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت، امریکہ میں "X” جنس کے طور پر شناخت کرنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ زمرہ پہلے غیر بائنری، انٹرسیکس، اور صنف سے مطابقت نہ رکھنے والے افراد کے لیے مختص تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری 2025 کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد جاری کیے گئے اس حکم میں تمام وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ صرف دو حیاتیاتی جنسوں — مرد اور عورت — کو پیدائش کے وقت کی بنیاد پر تسلیم کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "ریاستہائے متحدہ کی سرکاری پالیسی صرف دو جنسوں کو تسلیم کرے گی: مرد اور عورت۔ اس فیصلے کی جڑیں حیاتیاتی حقیقت میں ہے، نظریہ نہیں۔”
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ”X” جنس والے پاسپورٹ کی درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں اس زمرے کے تحت پہلے سے جاری کردہ پاسپورٹس کے لیے مزید رہنمائی جلد فراہم کی جائے گی۔یہ پالیسی لاکھوں امریکیوں پر اثر ڈال سکتی ہے جو "X” جنس کی شناخت رکھتے ہیں یا صنفی غیر مطابقت رکھنے والے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید اعلان کیا کہ وفاقی فنڈنگ ان تمام پروگراموں سے روک دی جائے گی جو صنفی نظریے کو فروغ دیتے ہیں تعلیمی، طبی، اور عوامی شعبوں میں ایسی پالیسیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو حیاتیاتی جنس سے ہٹ کر صنفی شناخت کو فروغ دیتی ہیں۔