فلسطینی رہنماؤں نے ٹرمپ کے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو مسترد کر دیا

0

فلسطینی قیادت، بشمول صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازعہ تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں غزہ کے باشندوں کی عارضی یا مستقل نقل مکانی کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس تجویز کو فلسطینی عوام، عرب لیگ، اور علاقائی حکومتوں نے سخت مذمت کا نشانہ بنایا ہے، جسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور "نسلی صفائی” قرار دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی تجویز اور ردعمل

صدر ٹرمپ نے غزہ کو "مسمار کرنے کی جگہ” قرار دیتے ہوئے یہ تجویز دی کہ غزہ کے 2.4 ملین باشندوں کو اردن اور مصر جیسے ممالک میں منتقل کیا جائے۔اردن اور مصر نے اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کیا۔صدر محمود عباس نے مغربی کنارے سے بات کرتے ہوئے کہا: "ہمارے لوگ اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے، چاہے کچھ بھی ہو۔”حماس کے رہنما باسم نعیم نے اسے فلسطینیوں کی شناخت مٹانے کی کوشش قرار دیا اور کہا: "ہم نے ایسی کوششوں کی ہمیشہ مزاحمت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”

ٹرمپ کی متنازعہ تجویز اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے فلسطینی عوام کی مشکلات اور خطے میں سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس معاملے پر ممکنہ ردعمل آنے والے دنوں میں واضح ہو گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.