عرب لیگ نے فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی کو ‘نسلی تطہیر’ قرار دے دیا

0

عرب لیگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نقل مکانی کی تجویز کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اس قسم کا اقدام "نسلی تطہیر” کے مترادف ہوگا اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرے گا۔ عرب لیگ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کوشش ناقابل قبول اور تاریخ کے سبق کی روشنی میں ناکام ہوگی۔

عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ نے اعلان کیاکہ "لوگوں کو ان کی زمین سے زبردستی بے دخل کرنا صرف نسلی تطہیر کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں فلسطینیوں کو ان کے وطن سے محروم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، اور یہ بھی ناکام ہو گی۔”تنظیم نے فلسطینیوں کی خودمختاری کے حق پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔

عرب لیگ کے ساتھ، مصر اور اردن نے بھی ٹرمپ کی تجویز کی سخت مخالفت کی ہے کہ مصر نے فلسطینی عوام کے "اپنے وطن میں رہنے کے ناقابل تنسیخ حق” کی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے نقل مکانی کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کے خلاف سازش قرار دیا۔مصری صدر نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے کہ "ایسی تجاویز ہماری قومی سلامتی کے لیے ‘سرخ لکیر’ ہیں۔”مصر نے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جبری نقل مکانی اس مقصد کو ناقابل حصول بنا دے گی۔

ٹرمپ کی متنازعہ تجویز نے فلسطینی عوام، عرب لیگ، اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے شدید مذمت کو جنم دیا ہے۔ فلسطینیوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ مصر اور اردن، جنہیں ٹرمپ نے ممکنہ میزبان ممالک کے طور پر تجویز کیا، نے ان منصوبوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ جیسے جیسے یہ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے، عالمی برادری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.