پاکستان نے سوڈان کے متحارب دھڑوں سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کردی

0

پاکستان نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں تاکہ 21 ماہ سے جاری تنازعے کو ختم کیا جا سکے، جس نے سوڈانی عوام کو شدید مشکلات اور انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے تنازع کے دونوں فریقوں، یعنیسوڈانی مسلح افواج (SAF)، جس کی قیادت عبدالفتاح برہان کر رہے ہیں، اورریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)، جس کی سربراہی محمد ہمدان دگالو (ہمدتی) کے پاس ہے، ان پر زور دیا کہ وہ اپنے جدہ اعلامیہ کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں۔ اس معاہدے میں عام شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کام کرنے کا عزم کیا گیا تھا۔

سوڈان کا بحران اپریل 2023 میں شروع ہوا جب SAF اور RSF، 2019 کی بغاوت کے بعد سویلین حکومت کی بحالی پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔اس ناکامی کے نتیجے میں دونوں گروہوں کے درمیان تشدد اور عدم استحکام نے جنم لیا، جس کا خمیازہ سوڈانی عوام کو بھگتنا پڑا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر اکرم نے انسانی بحران کے شدت اختیار کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ11 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔لاکھوں لوگ شدید بھوک اور مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے خاص طور پر الفشر کے سعودی ہسپتال پر حالیہ حملے کا حوالہ دیا، جس میں 70 معصوم افراد جاں بحق ہوئے۔دیگر علاقوں جیسے الجنینا، الجزیرہ، اور خرطوم میں جاری مظالم کو بھی اجاگر کیا۔

پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی نافذ کی جائے۔سفارتی ذرائع سے تنازعے کا پائیدار اور پرامن حل تلاش کیا جائے۔بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جائے۔متاثرین کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ذریعے انصاف دلایا جائے۔


    About The Author

    Leave A Reply

    Your email address will not be published.