سربیا کے وزیر اعظم میلوس ووسیوچ نے استعفیٰ دے دیا
سربیا کے وزیر اعظم میلوس ووسیوچ نے جاری طلباء کے مظاہروں اور ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صدر الیگزینڈر ووچک سے ایک طویل ملاقات کے بعد کیا گیا، جنہوں نے استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ مستعفی وزیر اعظم ووسیوچ نے طلباء کے احتجاج کو "بیرونی طاقتوں کی ایک منظم کوشش” قرار دیا، جس کا مقصد سربیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
طلباء کے مظاہرے، جو سربیا کے مختلف شہروں میں شدت اختیار کر چکے ہیں، ملک کے تعلیمی نظام اور حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کی عکاسی کرتے ہیں مظاہروں میں سڑکوں کی ناکہ بندی، تصادم اور افراتفری کے واقعات شامل ہیں۔وزیر اعظم نے ان مظاہروں کے پیچھے "خفیہ اور مذموم مقاصد” کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی سازش قرار دیا۔
وزیر اعظم ووسیوچ کے استعفے کے ساتھ ہی ان کی کابینہ بھی مستعفی ہو جائے گی۔نئی حکومت کے قیام تک موجودہ حکومت تکنیکی مینڈیٹ پر کام جاری رکھے گی۔ مستعفی وزیر اعظم ووسیوچ نے ذمہ داری کے ساتھ سیاسی تبدیلی کے عمل کو مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ پیش رفت صدر الیگزینڈر ووچک کے حالیہ اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے کابینہ میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا تھا کہ صدر کی جانب سے وزراء کی ممکنہ تبدیلیوں کے ذریعے جاری سیاسی اور سماجی کشیدگی پر قابو پانے کی کوشش متوقع ہے۔