پی ٹی ائی کی وکیل تابش فاروق کے انسداد دہشت گردی عدالت داخلے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی۔۔ توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا۔۔۔ عدالت نے تین روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔۔۔ دونوں نوٹسز انسداد دہشت گردی خصوصی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے جاری کئے
تابش فاروق ایڈوکیٹ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 21 ایک کے تحت عائد کی گئی۔۔۔ توہین عدالت کا نوٹس انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 37 اے اور بی کے تحت جاری کیا گیا۔۔۔
نوٹس میں قرار دیا گیا کہ عدالت میں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کے دوران نعروں کا جواب دے کر آپ نے قیدیوں کے ہجوم کو چارج کرکے دھمکانے کا ماحول پیدا کیا۔۔ٓپ کے پیدا کردہ ماحول کے باعث ملزمان عدالت پر دھاوا بول سکتے تھے۔۔آپ کا طرز عمل نہ صرف عدالت کی توہین بلکہ پیشہ ورانہ بدتمیزی بھی ہے۔۔۔
عدالتی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے طرز عمل کے حوالے سے معاملہ پنجاب بار کونسل لاہور کو بھجوایا جا رہا ہے۔۔عدالت پیشی پر ملزمان کو نعرے بازی کر کے اکسایا گیا،، ملزمان نےنعروں کا جواب دیا
عدالتی نوٹس کے مطابق آپ کے عمل کے باعث عدالتی امور نمٹانے میں شدید رکاوٹ پیش آئی۔۔ آپ کے عمل کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جو شہادتوں کی ریکارڈنگ کے وقت سامنے رکھی جائے گی۔۔۔
توہین عدالت کے اس نوٹس کا تین دن کے اندر جواب داخل کرانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔۔۔ تین دن میں جواب داخل نہ کرانے پر یہ تصور ہوگا کہ آپ کے پاس دفاع میں کچھ موجود نہیں۔۔۔
ایڈوکیٹ تابش فاروق نے اٹک سے پیشی پر آئے 350 ملزمان کی عدالت پیشی پر نعرے بازی کی تھی۔۔ ملزمان کو اٹک اور جہلم جیل سے جسمانی ریمانڈ کے لئے انسداد دہشتگردی عدالت پیش کیا گیا تھا۔۔ملزمان کےھ خلاف ضلع اٹک کے6 تھانوں میں 26نومبر احتجاج کے حوالے سے مقدمات درج ہیں۔۔۔