بلوچستان: قلات میں مسلح حملہ، بینک کو آگ لگا دی گئی، متعدد جاں بحق اور زخمی
بلوچستان کے ضلع قلات میں مسلح عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز کی چوکیوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، جبکہ ایک نجی بینک کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ حملے کے دوران مسافروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
یہ واقعہ جمعہ کی رات دیر گئے اور ہفتہ کی صبح پیش آیا جب درجنوں عسکریت پسندوں نے قلات کے علاقے منگی چار میں واقع سیکورٹی چوکیوں پر راکٹ لانچروں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر گزرنے والی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ڈپٹی کمشنر قلات بلال شبیر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان طویل فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس سے شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی۔ عسکریت پسندوں نے مختلف مقامات پر ہائی وے کو بلاک کر دیا اور گزرنے والی گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے باعث کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم سرکاری سطح پر ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
حملہ آوروں نے منگی چار بازار میں واقع ایک نجی بینک کو بھی آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ، عسکریت پسندوں نے خزنی چوکی کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں اور مسافر وینز کو بھی نشانہ بنایا۔
لیویز ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے اسالٹ رائفلز اور راکٹ لانچرز استعمال کیے۔ ایک تیز رفتار وین پر حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ تین سیکیورٹی اہلکاروں اور ایک مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
احتیاطی تدابیر کے تحت، ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ-کراچی شاہراہ کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ تاہم، صبح ہونے پر جب صورتحال قابو میں آئی تو ٹریفک کو دوبارہ بحال کر دیا گیا
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے فری فیکشن نے قبول کی ہے۔