پاکستان: ہندو برادری کی 400 سے زائد راکھ دریائے گنگا میں وسرجن کے لیے بھارت روانہ

0

پاکستان کی ہندو برادری کی 400 سے زائد محفوظ شدہ راکھ، جو کئی سالوں سے منتظر تھی، کراچی کے کنٹونمنٹ اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے واہگہ بارڈر کے راستے بھارت روانہ کر دی گئی۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد پاکستانی ہندوؤں کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنا ہے کہ ان کے عزیزوں کی راکھ کو ہریدوار میں دریائے گنگا میں وسرجن کیا جائے۔

راکھ کی روانگی سے قبل سولجر بازار میں ایک روحانی اور پروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندو مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی قیادت شری پنچ مکھی ہنومان مندر کے ہیڈ پجاری مہاراج شری رام ناتھ نے کی، جنہوں نے کہا کہ آٹھ سال کے طویل انتظار کے بعد، اب یہ راکھ واہگہ بارڈر اور دہلی کے راستے ہریدوار پہنچے گی، جہاں اسے مقدس دریائے گنگا میں بہایا جائے گا۔

یہ راکھ 2011 سے کراچی کے سونپوری شمشان گھاٹ میں محفوظ تھی۔ ہندوستان میں جاری 144 سالہ مہا کمبھ میلہ اس وسرجن کے لیے ایک خاص موقع فراہم کر رہا ہے، اور بھارتی حکومت نے اس تقریب کے لیے خصوصی ویزے جاری کیے ہیں۔

پجاری رام ناتھ کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس راکھ کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا، اور یہ وسرجن پاکستانی ہندو برادری کے لیے ایک تاریخی اور مذہبی طور پر اہم لمحہ ہوگا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.