ٹرمپ انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے 1 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کی درخواست، کانگریس میں بحث شدت اختیار کر گئی

0

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے 1 بلین ڈالر کے نئے ہتھیاروں کے پیکج کی منظوری طلب کی ہے، جو اسرائیل کی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ یہ درخواست غزہ میں انسانی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باوجود دی گئی ہے، جس پر امریکی سیاسی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔

ہتھیاروں کے معاہدے کی تفصیلات

امریکی حکام کے مطابق، مجوزہ معاہدے میں شامل ہیں:

🔹 4,500 BLU-1101,000 پاؤنڈ وزنی بم، جو فضائی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
🔹 200 Mk-83عام مقصد کے بم، جو اپنی تباہ کن طاقت کے لیے مشہور ہیں۔
🔹 D9 بکتر بند بلڈوزرکیٹرپلر کمپنی کے بنائے ہوئے، جو اکثر فلسطینی انفراسٹرکچر کی مسماری میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

ٹرمپ – نیتن یاہو ملاقات اور معاہدے کا پس منظر

🔹 اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے ہیں۔
🔹 بات چیت میں امریکی-اسرائیلی دفاعی تعاون اور علاقائی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
🔹 ہتھیاروں کا معاہدہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو مزید بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کانگریس میں اختلافات: ڈیموکریٹس کی مخالفت

🗳️ ریپبلکن ارکان کی اکثریت اس معاہدے کی حمایت کر رہی ہے۔
⚠️ ڈیموکریٹس نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
📢 بعض ڈیموکریٹک قانون سازوں نے شرائط عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کا پابند بنایا جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.