وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس۔۔۔۔ گوادر پورٹ کو کمرشل بنیادوں پر آپریشنلائز کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت۔۔۔
وزیراعظم نے گوادر پورٹ کی آپریشنلائزیشن کے حوالےسے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت کمیٹی تشکیل دے دی۔۔۔
کابینہ اجلاس کے اعلامیئے میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی گوادر پورٹ کو ایک جدید اور مکمل فعال بندرگاہ بنانے کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔۔وزیر اعظم نے گوادر پورٹ کی افادیت سے آگاہی کے حوالے سے انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کرنے کے احکامات جاری کئے۔۔۔
وزیراعظم نے کہا گودار پورٹ کے حوالے سے بہترین مارکیٹنگ اور آگاہی کی حکمت عملی بنائی جائے اور گوادر پورٹ کے حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔۔۔وزیر اعظم نے گوادر پورٹ سے کی جانے والی درآمدات اور بر آمدات کی تفصیل بھی طلب کر لی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گوادر پورٹ پر کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔۔۔ انہوں نے کہا گوادر پورٹ 50،000 ڈیڈویٹ ٹنیج تک کے جہازوں کے لئے خلیج فارس تک کم خرچ اور کم وقت میں رسائی مہیا کرنے اور خلیجی ممالک تک ٹرانس شپمینٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔
یہ بندرگاہ بلوچستان کے کان کنی اور ایکواکلچر کے شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔۔۔ اس بندر گاہ سے چین کے مغربی علاقے اور وسطی ایشیائی ریاستیں مستفید ہو سکیں گی۔۔۔۔۔گوادر فری زون کو تمام وفاقی، صوبائی اور لوکل ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔۔۔گوادر فری زون کے رولز بھی بنائے جا چکے ہیں۔۔۔
2018 سے 2022 کے دوران گوادر پورٹ کی ڈریجنگ کے حوالے سے مجرمانہ غفلت برتی گئی۔۔۔اس سے بندرگاہ کی گہرائی شدید متاثر ہوئی۔۔23-2022 میں گودار پورٹ کی ڈریجنگ کا کام مکمل کیا گیا۔۔ڈریجنگ کے بعد گوادر پورٹ کی گہرائی بحال ہو چکی ہے۔۔۔
احسن اقبال نے کہا گوادر میں عوامی فلاح کی کئی منصوبے بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں پاک- چین فرینڈ شپ اسپتال ، گودار انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، پاک-چین پرائمری اسکول، گوادر لائیو لی ہڈ پراجیکٹ، گوادر فشریز پراسسینگ اینڈ ایکسپورٹ زون اور گوادر سولر پارک وغیرہ شامل ہیں۔۔۔
حکومت گودار کو پاکستان ریلویز کی مین لائین M-4 سے منسلک کرنے کی لئے ریل لنک پر کام کر رہی ہے۔۔گوادر سے کوئٹہ شاہراہ 2018 میں مکمل کی جاچکی ہے۔۔۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ موٹر وے ایم 8 (گوادر-ہوشاب -رتو ڈیرو ) کے بقیہ حصے کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ گوادر کو سکھر سے منسلک کیا جاسکے۔۔۔گوادر اور کوئٹہ کا رابطہ مزید بہتر بنانے کے لئے نوکنڈی سے ماشخیل تک سڑک زیر تعمیر ہے جبکہ ماشخیل سے پنجگور تک سڑک پر کام کا آغاز جلد کیا جا رہاہے۔۔۔