گوادر میں گدھوں کے مذبح خانے سے چین کو گوشت کی ایکسپورٹ شروع ہو گئی

0

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تحفظ خوراک کا اہم اجلاس۔۔۔۔ سیکریٹری فوڈ نے بتایا چین کو گدھوں کا گوشت ایکسپورٹ کرنے کیلئے گوادر میں مذبح خانہ بنایا گیا ہے اور اس سے پیداوار بھی شروع ہوگئی ہے۔۔۔ ایک چینی کمپنی یہ کام کر رہی ہے۔۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی گدھوں کے سلاٹر ہاوسز کیلئے درخواستیں آرہی ہیں۔۔۔

چیئرمین کمیٹی سید حسین طارق نے استفسار کیا کہ زندہ گدھے کیوں ایکسپورٹ نہیں کئے جا رہے ہیں۔۔۔ سیکریٹری فوڈ وسیم اجمل نے بتایا زندہ گدھوں کی ایکسپورٹ مشکل ہے اس لئے ان کا گوشت تیار کر کے چین بھیجا جا رہا ہے۔۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر اس سال گندم کی سرکاری سطح پر خریداری نہیں کی جائے گی۔۔۔ پاسکو اور صوبوں کو پاس وافر ذخائر ہیں۔۔ گندم کی سٹوریچ نجی شعبے کرے گا۔۔۔ کمیٹی کا آئندہ مالی سال کیلئے صرف کارآمد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دینے کا فیصلہ

رکن کمیٹی رانا محمد اسحاق نے کہا کہ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں گندم کی اوسط پیداوار 50 من فی ایکڑ ہے جبکہ پاکستان میں 30 من فی ایکڑ ہے اس کی بنیادی وجہ زرعی ریسرچ میں کام نہ ہونا ہے۔۔پی اے آر سی کے سائنس دان کام کرتے تو کسان اور ملک خوشحال ہوتے

چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام محمد علی نے کہا کہ ملک میں زرعی ریسرچ میں نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی کم بجٹ دیا جا رہا ہے۔۔۔ اس سال کیلئے مختص ترقیاتی بجٹ میں صرف ساڑھے 14 ارب روپے ملے ہیں۔۔۔

سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے بتایا کہ گندم کی نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت مارکیٹ میں نجی شعبے کی شرکت کو بڑھایا جائے گا ۔۔۔کمیٹی نے دالوں ، چاول اور گنے کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔۔۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے مختصر مدت میں بہتر رزلٹ والے منصوبوں کی منظوری دی جائے گی

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.