اسرائیل کے خلاف تحقیقات: صدر ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف تحقیقات کرنے والی عالمی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندی لگانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت عدالت کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور انہیں امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
ایگزیکٹیو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ "آئی سی سی امریکہ اور ہمارے قریبی اتحادی اسرائیل کے خلاف ناجائز اور بے بنیاد اقدامات میں ملوث ہے۔” حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف "بے بنیاد وارنٹ گرفتاری جاری کر کے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔
گزشتہ سال، آئی سی سی نے غزہ میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرتے ہوئے نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ تاہم، امریکہ اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں اور اسے تسلیم بھی نہیں کرتے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے منگل کو صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جبکہ جمعرات کو کیپیٹل ہل میں امریکی قانون سازوں سے گفتگو کی۔
پابندیوں کی ممکنہ کارروائیاں
ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت کہ
- آئی سی سی کے عہدیداروں کے امریکی اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں۔
- آئی سی سی کے اہلکاروں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
- ان اقدامات کے مرتکب افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔