لبنان میں نئی حکومت کا قیام: نواف سلام نے وزیر اعظم کے طور پر عہدہ سنبھال لیا

0

لبنان کے صدر جوزف عون نے نگراں حکومت کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے نواف سلام کو ملک کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حکومت بنانے کا اختیار دے دیا ہے۔ یہ لبنان میں 2022 کے بعد پہلی مکمل حکومت ہے، جو سیاسی استحکام کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

نواف سلام کی سربراہی میں 24 رکنی کابینہ تشکیل دی گئی ہے، جس میں لبنان کے عیسائی اور مسلم فرقوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔کابینہ کی تشکیل محض ایک ماہ میں مکمل کی گئی، جو لبنان کی سیاست میں ایک تیز ترین پیش رفت ہے۔نئی حکومت کا ایک اہم مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد جنوبی لبنان کی تعمیر نو ہے، جو امریکی ثالثی کے تحت نومبر میں جنگ بندی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی تھی۔

وزیر اعظم نواف سلام کا وژن

نواف سلام، جو ایک معروف سفارت کار اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے سابق صدر رہ چکے ہیں، نے عہدہ سنبھالتے ہی چند اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے:
عدلیہ اور معیشت میں اصلاحات لا کر ملک کو بحران سے نکالنا۔
قومی سلامتی کو مضبوط بنانا تاکہ داخلی اور خارجی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد بحال کرنا، تاکہ لبنان ایک مستحکم مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

سیاسی منظرنامہ اور حزب اللہ کا کردار

  • لبنان کی طاقتور تنظیم حزب اللہ نے نواف سلام کی حمایت نہیں کی، تاہم وہ نئی حکومت میں شیعہ وزراء کے کردار پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
  • نئی حکومت کا جھکاؤ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف نظر آ رہا ہے، جو ایران نواز گروہوں کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے۔
  • صدر جوزف عون نے اپنے بیانات میں ریاستی اداروں کی خودمختاری پر زور دیا، جو لبنان میں مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.