ریاض : اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی تجویز پر دوبارہ زور دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ٹھوس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مملکت فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتی ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک اخباری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے ۔ فلسطینی بیرون ملک سے آنے والے غیر ملکی قابض یا تارکین وطن نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کا حق ثابت قدم رہے گا اور کوئی بھی اسے چھین نہیں سکے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے۔
سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ مملکت نے فلسطینی کاز کی مرکزیت پر زور دینے والے ممالک کی کاوشوں کو سراہا۔
سعودی عرب نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنےکے حوالے سے نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے والے "برادر ممالک” کے موقف کو سراہا۔
سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے سے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزارت خارجہ نے گذشتہ بدھ کو اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مملکت کا موقف مضبوط، غیر متزلزل اور ٹھوس ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔
سعودی عرب کا یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے باشندوں دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے اور غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے اسرائیل ۔فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر قائم رہنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور فلسطینیوں کے ان کی سرزمین پر حق کی پاسداری کا اعادہ کرتا ہے۔