اسرائیلی وزیرِاعظم کا ہنگامی اجلاس، حماس کے یرغمالیوں کے تبادلے کے التوا کے فیصلے کا جائزہ
اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کی جانب سے یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے التوا کے اعلان پر غور کے لیے سیکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق، وہ معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے اور یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیکیورٹی کابینہ کا متوقع ایجنڈا
اس اجلاس میں درج ذیل امور پر غور کیے جانے کا امکان ہے:
- حماس کے الزامات اور معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات۔
- مذاکرات کے اگلے ممکنہ مراحل۔
- حماس کے فیصلے پر اسرائیلی ردعمل۔
دوسری جانب، تل ابیب میں شہریوں کا احتجاج جاری ہے، جہاں مظاہرین یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں مذاکرات کے تعطل کے باعث عوامی بےچینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اسرائیلی قیادت کے فیصلے نہ صرف اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کے مستقبل بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔