ٹرمپ کا اسرائیل کو پیغام: حماس نے یرغمالیوں کو نہ چھوڑا تو جنگ بندی منسوخ کی جائے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حماس ہفتے کی دوپہر تک تمام مغویوں کو رہا کرنے میں ناکام رہی تو اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی منسوخ کر دینی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حتمی فیصلہ اسرائیل کے اختیار میں ہے۔
پیر کو ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے سخت لہجہ اپنایا اور خبردار کیا، کہ "اگر یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہوتی، تو پھر سب کچھ جہنم میں جا سکتا ہے۔”
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بہت سے مغوی شاید پہلے ہی جاں بحق ہو چکے ہوں، جس سے جنگ بندی کے معاہدے پر مزید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ بندی 15 ماہ سے برقرار ہے، لیکن یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی شرائط پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ریمارکس سے یہ معاہدہ مزید غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ امدادی اور تعمیر نو کے کاموں پر بھی اثر پڑے گا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وہ غزہ میں فلسطینیوں کی مستقل واپسی کے مخالف نظر آ رہے ہیں۔ ان کے حالیہ انٹرویو میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو "واپس جانے کا حق نہیں ہونا چاہیے”۔
یہ مؤقف ان کے کئی حکومتی عہدیداروں سے مختلف ہے، جو فلسطینیوں کی عارضی نقل مکانی کی تجویز دے رہے تھے، نہ کہ مستقل بے دخلی۔
ٹرمپ کے بیانات سے نہ صرف جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کے امریکی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے میں بین الاقوامی ثالثی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور امریکی پالیسی میں اچانک تبدیلی خطے کے سفارتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔