کراچی : میری ٹائم سیکٹرمیں انفراسٹرکچرچیلنجز کے پیش نظرجامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کرلیا گیا۔ سمندری شعبے میں جامع اصلاحات کے لیے میری ٹائم اینڈ سی پورٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاگیاہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کی استعداد بڑھانے کے لیےایلیویٹڈ ایکسپریس وےکی تعمیر اصلاحاتی منصوبے میں شامل ہے۔ جامع اصلاحاتی منصوبے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی بھی شامل ہے۔
پورٹ کلیئرنس کےدورانیے کوکم کرنے کیلئے کنٹینرز کی 100 فیصد انسپیکشن جدید سکینرز کی ذریعے کی جائےگی۔ پورٹ کلیئرنس میں شفافیت کیلئے پاکستان سنگل ونڈو آپریشن کا قیام عمل میں لایا جائےگا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کا فقدان انتہائی اہم چیلنج ہے۔انفراسٹرکچر کے مسائل کے باعث زیادہ مال لانے والے بڑے جہاز یہاں پر لنگر انداز نہیں ہوپاتے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پورٹ کلیئرنس میں 48 سے 72 گھنٹے لگتے ہیں۔ پاکستان میں پورٹ کلیئرنس میں 14 دن لگتے ہیں ۔ بندرگاہوں پر مینول کلیئرنس کی باعث کلیئرنس کاعمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ۔
معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ کلیئرنس میں تاخیر کےباعث فریٹ چارجز میں اضافہ ہوتا ہے۔ فریٹ چارجز اور سست کلیئرنس نے پاکستانی پورٹس کوغیر مسابقتی بنادیاہے۔ معیشت میں بہتری کیلئےمیری ٹائم سیکٹرمیں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی کمپنی میرسک پاکستان میری ٹائم سیکٹر میں2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہے۔ میری ٹائم سیکٹر میں بروقت اصلاحات سے معیشت میں بہتری اور عالمی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوگا۔