وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ متحدہ عرب امارات۔۔۔۔ یو اے ای کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 کے موقع پر ملاقات کی۔۔۔
وزیر اعظم شہباز شریف شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دعوت پر ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 میں شرکت کے لیے دبئی کا دورہ کر رہے ہیں۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے وزیر اعظم شہباز شریف کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین گہرے اور دیرینہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے سمٹ میں شرکت کیلئے دعوت پر محمد بن راشد المکتوم کا شکریہ ادا کیا
وزیر اعظم نے اس اقدام کی تعریف کی جس نے عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں وہ طرز حکومت کے بہتر مستقبل پر عالمی گفتگو کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہو سکیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کاروبار اور جدت کے عالمی مرکز کے طور پر دبئی کی شاندار ترقی کو متحدہ عرب امارات کی دور اندیش قیادت کا ثبوت قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات کو پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی جس کا مقصد توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اماراتی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ حاصل کرنے کی دعوت دی۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دبئی کے عزم کا اعادہ کیا۔
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے مختلف شعبوں بشمول مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی لچک کے اقدامات میں بڑھے ہوئے تعاون کا خیر مقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 70 کی دہائی میں متحدہ عرب امارات میں اپنے خوشگوار قیام کا ذکر کیا
یہ متحدہ عرب امارات کی مثالی قیادت ہی ہے جس نے مختصر عرصے میں ملک کو بدل کر رکھ دیا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف
وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی مستقل حمایت اور غیر معمولی دیکھ بھال پر متحدہ عرب امارات کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
شیخ محمد بن راشد نے پاکستانی تارکین وطن کے تعاون اور متحدہ عرب امارات کی ترقی میں انکے کردار کو سراہا۔