صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کے تجارتی پارٹنرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ۔۔۔ دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بھونچال آ گیا۔۔۔
خام تیل کی عالمی مارکیٹ میں روس اور ایرانی تیل سپلائی پر تحفظات اور معاشی کساد بازاری کے خدشات نے ہلچل مچا دی ہے۔۔
نیویارک کی اسٹاک مارکیٹ میں ایک بیرل خام تیل مزید 1.23 ڈالر مہنگا ہو گیا۔۔۔ خام تیل 77 ڈالر 7 سینٹس میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔۔
حالیہ ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمت 2 فیصد بڑھ چکی ہے۔۔۔
صدر ٹرمپ کی ایران اور روس پر مزید پابندیوں کے اعلان سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔۔۔ اگر روسی تیل کی ایکسپورٹس پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان ایشیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور بھارت کو ہو گا جو روسی تیل کے دنیا میں سب سے بڑے خریدار ہیں۔۔۔
امریکی صدر نے ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنے کے لئے بھی پابندیوں کا عندیہ دیا ہے جس کے باعث آئل مارکیٹ میں خام تیل مسلسل مہنگا ہو رہا ہے