کراچی کے قیمتی ڈمپرز اور عوام کی سستی زندگی۔۔۔۔ یکم جنوری سے 12 فروری تک 104 افراد ڈمپر کے نیچے کچل کر جان کی بازی ہار گئے۔۔۔
ڈمپر کے نیچے کچلے جانے والے شہریوں کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ڈمپر کی رجسٹریشن ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی نمبر پلیٹ لگی ہے۔۔۔ محکمہ ایکسائز میں ڈمپر کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔۔
104 شہریوں کی ہلاکت کے بعد بالآخر سندھ حکومت جاگ گئی۔۔۔ صوبائی وزیر داخلہ نے اجلاس طلب کی اور ڈمپر کی شہر میں آمد سے متعلق نیا شیڈول جاری کر دیا۔۔
رات گیارہ بجے سے صبح چھ بجے تک ڈمپرز کراچی شہر کی حدود میں داخل ہو سکیں گے۔۔۔
ڈمپرز کو 15 دنوں میں رجسٹریشن کروانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔۔