قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پاکستان کے دورے پر آئے آئی ایم ایف کے وفد کو خط لکھ دیا جس میں انتخابات میں دھاندلی، سیاسی اسیروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔۔۔
عمر ایوب نے کہا میں یہ خط اہم موڑ پر لکھ رہا ہوں جب(IMF) کا مشن معاشی اور گورننس فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے،۔۔۔جس میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی بنیادی نقاط ہیں۔۔۔اس تناظر میں ایک ڈوزیئر بھی ساتھ ارسال کیا جا رہا ہے۔۔۔جو معزز چیف جسٹس آف پاکستان کو پیش کیا جا چکا ہے۔۔جس میں وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے ناقابل تردید شواہد کی تفصیل دی گئی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے 7 جولائی 2023 کو آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے منصفانہ انتخابات ناگزیر تھے۔۔۔ ملک میں معاشی خوشحالی اور ترقی اسی وقت ہو سکتی ہے جب قانون کی حکمرانی ہو اور آئین کی پاسداری ہو۔
خط کے مطابق ڈوزئیر میں اس بات کے ٹھوس حقائق اور ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ریاستی اداروں بشمول الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دبایا۔۔۔اس کا عوامی مینڈیٹ زبردستی چھین لیا، اور انتخابی نتائج کی انجینئرنگ کی گئی۔۔
خط میں کہا گیا ہے جمہوری عمل کی منظم ہیرا پھیری پورے ملک میں عیاں ہے۔۔۔انصاف، آزاد مرضی اور آئینی طرز حکمرانی کے اصولوں کو مجروح کر رہی ہے۔۔ ایک این جی او پتن کی رپورٹ بھی شامل ہے جو انتخابی ہیرا پھیری کی تفصیلات بتاتی ہے۔
اقتصادی اور سیاسی استحکام میں شفافیت کی اہمیت کے پیش نظر، ہم سمجھتے ہیں کہ ان سنگین خدشات کو پاکستان میں گورننس کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی اداروں سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی توجہ دلانا ضروری ہے۔
اگر وفد کو مزید معلومات یا وضاحت کی ضرورت ہو تو ہمیں ملنے اور کوئی ضروری مدد فراہم کرنے میں خوشی ہوگی۔۔ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے مستقبل سے متعلق تمام مصروفیات میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری سالمیت کو برقرار رکھنا اولین ترجیح رہے گی۔۔
