اسرائیل نے حماس کو خبردار کر دیا: جنگ بندی کا معاہدہ مزید تین یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط
اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے ہفتے تک مزید تین یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی کا معاہدہ برقرار نہیں رہے گا۔ اسرائیلی حکام نے یہ پیغام مصر اور قطر کے ذریعے حماس کو پہنچایا ہے، جو اس تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت اعلیٰ حکام نے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق متضاد بیانات دیے ہیں۔ کچھ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، حکومت صرف تین یرغمالیوں کی رہائی پر زور دے رہی ہے، جب کہ دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے بغیر جنگ بندی جاری نہیں رہے گی۔
حماس نے حالیہ دنوں میں یرغمالیوں کی رہائی کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔ حماس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث تنظیم نے مزید رہائیوں کو معطل کر دیا ہے۔
حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ "اسرائیل اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہا، اور جب تک وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، ہم یرغمالیوں کی رہائی پر نظرثانی کریں گے۔”
مصر اور قطر، جو جنگ بندی کے معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے بچایا جا سکے۔