بانی پی ٹی آئی نے رمضان المبارک کے بعد بھرپور انداز میں احتجاجی تحریک چلانے کی ہدایت۔۔۔۔ اسد قیصر اور عمر ایوب کو ٹاسک دے دیا گیا۔ ماہرنگ بلوچ سے رابطہ کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی بھی ہدایت ۔۔ اوپن خطوط سے متعلق کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جن پر اسٹیبلشمنٹ کو غور کرنا چاہیئے ۔۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ ثناء اللہ مستی خیل کو سیاسی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ آج جھوٹے کیسز کی سماعت تھی۔۔۔
فیصل چوہدری نے کہا جن لوگوں نے پی ٹی آئی چھوڑ دی انکے خلاف نو مئی کا کوئی کیس رجسٹر نہیں کیا گیا۔۔ آج بھی سرکاری گواہان کو پیش کیا گیا۔۔۔اڈیالہ جیل میں کنٹرولڈ ٹرائل چلایا جارہا یے۔۔۔ وکلاء اور صحافیوں کو پک اینڈ چوز کرکے اندر بھیجا جاتا ہے۔۔ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل کی درخواست دائر کی ہے۔۔۔
بانی نے اپنے تینوں خطوط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اوپن خطوط ہیں اور سب کیلئے ہیں۔ بانی نے کہا ہے ملک میں بڑھتی دہشتگردی کا سدباب کرنا ہوگا۔۔۔ عدلیہ کوتباہ کیا گیا ہے۔۔
فیصل چوہدری نے کہا بانی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ نے اغواء قرار دیا۔۔۔ آزاد جج کبھی کوئی متنازعہ ریمارکس نہیں دیتے۔۔ 9 مئی کو بانی کی گرفتاری کے وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا ہوا سب نے دیکھا۔۔
ہم نو مئی پر اسی لئے جوڈیشل کمیشن مانگ رہے ہیں۔۔ ہمارا موقف ہے 9 مئی فالس فلیگ آپریشن تھا۔۔۔ ہم ریاست سے آئین اور قانون کے مطابق انصاف مانگتے ہیں۔
ملٹری کورٹس کا کیس سننے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے ریمارکس سے متفق نہیں ہیں۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، انسانی حقوق پامالی کیس کو دنیا کے سامنے لانے کی وجہ رول آف لاء کی نفی ہے۔۔
فیصل چوہدری نے کہا ہم بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں آج آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ ریورس ہوچکے ہیں، ملک میں انٹرنیٹ بند ہے کون یہاں سرمایہ کاری کرے گا، پی ٹی آئی حکومت کے بعد ملک کو 45 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، فارم 47 کے کندھوں پر چڑھ کر یہ حکومت قائم کی گئی ہے۔