فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ایم ایف کی ایک مزید شرط پوری کر دی۔۔۔۔۔
ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریٹیلرز کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم کر دی گئی
نئی ترمیم کے بعد ٹیئر ون میں شامل پوائنٹ آف سیل کی حامل کسی بھی دکان کے 48 گھنٹوں تک ایف بی آر کے ڈیٹا بیس سے منقطع رہنے پر کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی۔۔۔کاروباری جگہوں کو سیل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دیدیا گیا ہے۔
متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کرنے کا مجاز ہو گا۔۔۔ مقررہ وقت کے اندر ٹیکس ادائیگی پر کاروباری جگہ ڈی سیل کر دی جائے گی۔۔۔
ایف بی آر کے مطابق کاروبار کی ڈی سیلنگ کے بعد تین دن کے اندر تمام پوائنٹ آف سیل مشینوں کا سافٹ ویئر آڈٹ کیا جائے گا۔۔۔۔آڈٹ کے دوران ریکارڈ ہونے والی فروخت کو بھی مدنظر رکھا جائیگا۔۔۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 50 اور دیگر دفعات کے تحت سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم کر دی ہیں۔۔۔
نئی ترمیم کے تحت اگر کوئی دکان 48 گھنٹوں تک ایف بی آر کے ڈیٹا بیس سے منقطع رہے تو کارروائی کی جا سکے گی۔۔آف لائن انوائسز کو 24 گھنٹوں کے اندر سسٹم میں داخل نہ کی جائیں یا ان انوائسز کا ریکارڈ محفوظ نہ رکھا جائےتو اسے خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔۔۔۔
ایسی کاروباری جگہوں کو سیل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ایف بی آر کو حاصل ہوگا ۔۔۔اگر رجسٹرڈ شخص کسی بھی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، تو اس کی کاروباری جگہ سیل کی جا سکتی ہے۔۔۔۔