قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب۔۔۔۔اس وقت بلوچستان کے سات اضلاع اگر آزادی کا اعلان کر دیں تو اقوام متحدہ میں قبول کر لیا جائے گا۔۔۔خیبر پختون کے جنوبی اضلاع میں کوئی حکومت نہیں ہے۔۔۔وہاں کی سڑکیں اور گلیاں مسلح افراد کے حوالے کر دی گئیں ہیں۔۔۔مظلوموں کی چیخ و پکار کو کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا پارلیمان سے قانون پاس ہو رہے ہیں لیکن ملک ہو گا تو قانون نافذ ہو گا۔۔۔آج صوبوں میں حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں۔۔۔عوامی نمائندے عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا ایک طرف ہم ہیں جو نظریات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف طاقت اور اتھارٹی کی زبان میں بات کی جا رہی ہے۔۔ میں نے 2018میں انتخابات کو تسلیم نہیں کیا میں آج بھی اس پارلیمان کو عوام کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتا۔۔۔ہم نے چالیس سال پروکسی جنگ لڑی۔۔۔ہم نے افواج کو جنگوں میں دھکیلا ہے۔۔۔کیا ہم اس محاظ سے نکل چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ہم سارا غصہ افغانستان پر ڈال کر اپنی غلطیوں کو چھپا نہیں سکتے۔۔۔ہم نام نہاد عالمی دہشت گردی خلاف امریکہ اور نیٹو کے اتحادی بن گئے۔۔۔۔ہم نے اپنے اڈے دیے۔ کی افغانستان نے کہا کہ آپ کے ہاں سے جہاز کیوں اڑ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم نے ہر قدم ذمہ داری سے قدم اٹھانا تھا۔۔۔میں خود انتخابات سے پہلے وزارت خارجہ کی بریفنگ سے افغانستان گیا ۔۔۔۔افغانستان حکومت نے ایک ایک نکتے سے آمادگی ظاہر کی۔ لیکن اس عمل کو کس نے سبوتاز کیا۔۔ہم کیوں ایک نیا محاذ کھول رہے ہیں؟
انہوں نے کہا ملک کو مزید آزمائش کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ پالیسیاں سیاستدانوں کے حوالے کی جائیں۔۔۔ہر قدم جنگ کی طرف بڑھانے کے بجائے امن کی طرف بڑھایا جائے۔۔۔عالمی قوتوں نے ترقی پذیری اور غریب ممالک کو غلام بنانے کا نیا طریقہ نکال لیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا غریب ممالک کو سیاسی اور دفاعی لحاظ سے غلام بنایا جارہے۔۔۔ہمارے فیصلے اقوام متحدہ کی کمیٹیوں میں ہوتے ہیں۔۔۔ہماری معیشت عالمی اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ جیسے آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے۔۔۔ہمیں قرضوں میں جھکڑ کر اب آئی ایم ایف سیاستدانوں کے بجائے عدلیہ سے ملاقات کر رہا۔۔۔بتایا جائے آئی ایم ایف کا عدلیہ سے کیا تعلق ہے۔
انہوں نے کہا اپوزیشن کی اچھی تجویز کو حکومت کو فراخدلی سے قبول کرنا چاہیے۔۔ایک سال سے دیکھ رہا حکومت کی طرف سے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔۔۔ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے۔
کے پی اور بلوچستان کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔۔۔ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ دو صوبوں میں حکومت کی رٹ موجود نہیں ہے۔۔
انہوں نے کہا تعجب کی بات ہے کہ نکتہ اعتراض پر بولنے کا موقع دینے کی روایت رہی ہے۔۔۔ایک سال میں اس اہوان کی ہنگامہ آرائی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔۔۔حکومت چاہے نہ چاہے سپیکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایوان کا ماحول بہتر رکھے۔۔پورا ملک اس وقت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔۔۔عام آدمی کے پاس روز گار ہے نہ ہی جان و مال کا تحفظ۔۔یہاں پر ادارے اور محکمہ ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں