کُرم میں شرپسندوں کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کا سخت کارروائی کا فیصلہ

0

کُرم میں قافلوں پر دوبارہ فائرنگ کے واقعات کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کای ہے۔۔۔

 کرم میں اوچت، مندوری سمیت دیگر علاقوں میں شرپسندوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔۔۔ اس بات کا فیصلہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کرم کے معاملے پراجلاس میں ہوا جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ کو آج کے ناخوشگوار واقعے پر بریفنگ دی گئی جبکہ علی امین گنڈاپور نے گاڑیوں کے قافلوں پر فائرنگ اور لوٹ مار کے واقعات کی مذمت کی۔

اجلاس میں کرم کے علاقے اوچت، مندوری سمیت دیگر علاقوں کو شرپسندوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ان علاقوں میں موجود شرپسندوں کے خلاف بلاتفریق اور سخت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شرپسندوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کیلئے ان مقامات سے آبادی کو نکالا جائے گا اور مقدمات میں نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، علاقے میں موجود شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے سول انتظامیہ اور پولیس کو لیڈ رول دیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا صوبائی حکومت آج کے واقعے کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھتی ہے، علاقہ عمائدین اور مقامی لوگ ان علاقوں میں موجود شرپسندوں کو سزا دلوانےکیلئے حکومت کے حوالے کریں، علاقے کی امن کمیٹیاں اپنے علاقوں میں شرپسندوں کو اس طرح کی کارروائیوں سے باز رکھنے میں ناکام رہیں اور  اب حکومت ان علاقوں میں امن دشمن عناصراوران کے سہولت کاروں کے خلاف بھر پور کاروائی عمل میں لائے گی۔

ترجمان کے مطابق  کرم میں امن کی بحالی کے عمل میں سیاسی قیادت اور منتخب عوامی نمائندوں کو کھل کر سامنے آنا ہوگا، کرم کے معاملے پر منفی پروپیگنڈے کا مؤثر اور بروقت جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ضلع کرم میں لوئرکرم کے علاقوں میں امدادی سامان کی گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں ٹرک ڈرائیور اکرم خان جاں بحق ہوگیا۔

  آج صبح کھانے پینےکی اشیا،ادویات اور دیگر سامان سےلدی  گاڑیوں ضلع ہنگو سےضلع کرم کیلئے روانہ ہوئی تھیں، لوئرکرم پہنچنےپربگن، اوچت، مندوری، ڈاڈ قمر، چارخیل سمیت7 مقامات پر قافلے پر حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں ٹرک ڈرائیوروں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔ْ

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.