ہمارے شہداء قوم کے وہ ستارے ہیں جن کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی… وہ بہادر سپوت جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان نچھاور کی، ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے
سپاہی طیب علی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے 21 دسمبر 2024 کو شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا
سپاہی طیب علی شہید کے والد نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرا اکلوتا بیٹا اور تین بہنوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا۔۔جس نے اللہ کی راہ میں اور وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔۔ بیٹے کی جدائی کا غم ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گا۔۔۔ جب یاد شدت اختیار کرتی ہے، تو ہم قرآن پاک کی تلاوت سے دل کو سکون دیتے ہیں
شہید کے والد نے مزید کہا ہمارے بیٹے نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور ہمیں اس کی قربانی پر بے حد فخر ہے۔۔۔شہادت کی خبر سنتے ہی میں نے نفل ادا کیے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ میرے بیٹے کی قربانی شرفِ قبولیت پائے۔۔
سپاہی طیب علی شہید ایک نہایت نیک سیرت اور فرمانبردار بیٹا تھا۔۔اللہ نے اسے شہادت کے عظیم مرتبے سے سرفراز کیا اور اپنے وطن کے لیے جان قربان کرنے کا شرف عطا کیا۔۔۔مجھے اپنے بیٹے کی قربانی پر بے حد فخر ہے، اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کے بیٹوں کو اپنی حفاظت میں رکھے,
شہید کی بہن نے کہا میرا بھائی ہم سب کا لاڈلہ تھا، اور جب بھی چھٹی پر آتا، ہم سے محبت اور شفقت سے ملا کرتا تھا۔۔اسے یاد کر کے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، مگر پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے بھائی کو اتنا بلند مقام عطا ہوا۔۔
شہادت کی خبر سن کر دل کو بہت دکھ ہوا، مگر یہ سوچ کر صبر آ گیا کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔۔ہمارے بھائی کا نام جتنا خوبصورت تھا، اللہ نے اسے اتنا ہی اعلیٰ رتبہ عطا کیا۔۔۔
شہید طیب علی کے نانا نے کہا ہر بچے کی پیدائش والدین کے لیے خوشی کا سب سے بڑا لمحہ ہوتی ہے، اور طیب علی بھی ہماری زندگی میں خوشیوں کا سبب بنا۔۔۔میرا نواسہ نہایت فرمانبردار تھا اور ہمیشہ ہماری خوشی کا خیال رکھتا تھا۔۔جب بھی میں اپنے نواسے کے گھر آتا ہوں، اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔۔ اگر وطن کو ضرورت پڑی تو ہم ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں