اقتصادی بحران : لاکھوں افغان ملک چھوڑ گئے

0

کابل : طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی مالیاتی اور اقتصادی صورتحال شدید بحران کا شکار ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ اور افغانی کرنسی کی قدر میں کمی نے گہری تشویش پیدا کر دی۔

دی افغانستان بینک (DAB) کا 30 اگست کو نیلامی میں 20 ملین ڈالر فروخت کر نے کا اعلان کیا۔یہ اقدام امریکی غیر ملکی امداد کی معطلی اور افغانستان کی کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ڈالر کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بینک نے کرنسی ایکسچینجرز اور تجارتی بینکوں کو نیلامی میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔

اعلان کے مطابق کامیاب بولی دہندگان کو کاروباری دن کے اختتام تک مکمل ادائیگی کرنی ہوگی، جزوی ادائیگیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔اس سے پہلے، 17 اگست کو DAB نے 25 ملین ڈالر کی نیلامی کی تھی تاکہ کرنسی کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ بینک نے تمام منی چینجرز اور کمرشل بینکوں سے کہا کہ ٹینڈرز جیتنے والوں کو دن کے اختتام تک اپنے اکاؤنٹس کا حساب کلئیر کرنے کے پابند ہو نگے

دی افغانستان بینک کے مطابق، مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 73.58 افغانیاں فی ڈالر کی شرح تبادلہ ہے۔24 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 90 دن کے لیے تمام غیر ملکی امداد معطل کر دی گئی، جس کے نتیجے میں افغانی کرنسی 69 سے بڑھ کر 80 افغانیوں سے زائد پر ڈالر کے برابر ہو گئی۔

افغانستان میں کرنسی کی قدر میں کمی، امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور 7 لاکھ سے زائد افغانوں کی ہجرت اقتصادی مشکلات کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔بینک آف افغانستان کی پالیسی وقتی حل ہو سکتی ہے، لیکن افغان حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں کرنسی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری نے سیاسی و معاشی بے چینی بڑھا دی ہے، جس سے ملک میں نیا بحران جنم لے رہا ہے۔وقت آگیا ہے کہ طالبان حکومت اپنے ملک کو دہشتگردوں کی آماجگاہ بنانے کی بجائے ملکی ترقی پر توجہ دے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.