اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تل ابیب کے قریب ہونے والے بس دھماکوں کے بعد مغربی کنارے میں فوجی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔ بیٹ یام اور ہولون میں ہونے والے یہ دھماکے خالی بسوں میں نصب بارودی مواد کے باعث ہوئے، جن میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، دو بم دھماکے بیٹ یام کے ایک ڈپو میں کھڑی بسوں میں ہوئے، جب کہ تیسرا دھماکہ ہولون میں ایک بس کے اندر ہوا۔ اب تک کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ان واقعات کو ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کو مغربی کنارے میں آپریشن کے احکامات دیے گئے۔ نیتن یاہو نے کہا، "ہم ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں گے جو اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
اسرائیلی حکام کے مطابق، دھماکوں کے ذمہ داران کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں، جب کہ عوام سے چوکسی برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔
