پاکستان نے کٹاس راج مندروں کی زیارت کے لیے 154 بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 154 بھارتی یاتریوں کو کٹاس راج مندروں کی زیارت کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔ یہ یاترا 24 فروری سے 2 مارچ 2025 تک جاری رہے گی اور 1974 کے پاک-بھارت مذہبی زیارت پروٹوکول کے تحت منعقد ہو رہی ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں پاکستان کا کردار

پاکستان میں چارج ڈی افیئرز سعد احمد وڑائچ نے ویزے حاصل کرنے والے زائرین کو نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ”پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مذہبی سیاحت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم سرحد پار سے زائرین کے استقبال کی اپنی دیرینہ روایت کو برقرار رکھیں گے۔”

پاکستان کی یہ کاوش ثقافتی اور مذہبی تبادلوں کے فروغ کی پالیسی کے عین مطابق ہے تاکہ ہندو، سکھ، اور دیگر مذہبی برادریاں اپنے مقدس مقامات تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔

کٹاس راج مندروں کی مذہبی اور تاریخی اہمیت

کٹاس راج مندر ہندو برادری کے لیے ایک انتہائی مقدس مقام ہے۔

  • مہابھارت کے دور سے منسوب یہ مندر بھگوان شیو سے جُڑا ہوا ہے۔
  • یہاں موجود کٹاس کنڈ (مقدس تالاب) کو ہندو عقیدت مند روحانی صفائی کا ذریعہ مانتے ہیں۔
  • یہ مقام قدیم فنِ تعمیر، تاریخ اور روحانی تقدس کے امتزاج کی علامت ہے۔

1974 کے مذہبی زیارت پروٹوکول کے تحت زیارتیں

پاک-بھارت معاہدے کے تحت ہزاروں بھارتی زائرین ہر سال مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں، جبکہ پاکستانی زائرین بھی بھارت میں مذہبی رسومات میں شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان کا مستقل تعاون – ویزوں کے اجراء اور زیارت کے انتظامات میں سہولت فراہم کرنا۔
مذہبی آزادی کا احترام – بھارتی یاتریوں کے لیے آسانی سے مقدس مقامات تک رسائی ممکن بنانا۔

کٹاس راج مندروں کی زیارت پاکستان اور بھارت کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کا ایک اور اہم قدم ہے۔یہ یاترا نہ صرف مذہبی سیاحت کے فروغ میں مدد دے گی بلکہ امن، رواداری اور ہم آہنگی کی علامت بھی بنے گی۔

بھارتی یاتریوں کا گروپ 24 فروری 2025 کو پاکستان پہنچے گا اور 2 مارچ 2025 کو زیارت مکمل کرکے بھارت واپس جائے گا۔ اس دوران وہ مذہبی رسومات اور تقریبات میں شرکت کریں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے