ایک سیاستدان کہتا تھا شہباز شریف پیسے مانگنے جاتاہےآپ بانٹنے جاتے تھے؟

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے قرضوں کی دلدل میں پھنسا پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔۔۔ جب صنعتی پہیہ چلے گا اور زرعی پیداوار بڑھے گی تو ملک ترقی کرے گا۔۔۔ دیہات اور شہروں میں خوشحالی آئے گی اور معاشی خوشحالی کی منزل حاصل ہو گی۔۔

ڈیرہ غازی خان میں جلسے سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا ایک سیاستدان کہتا تھا شہباز شریف پیسے مانگنے جاتا ہے، کیا آپ بانٹنے جاتے تھے؟ ملک کی معیشت مستحکم ہوگئی ہے، لیکن ہمیں خوشحالی لانی ہے، نوجوانوں کو روزگار دلانا ہے، بجلی کے بل مزید کم کریں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا دشمن گھس بیٹھیے گھات لگائے بیٹھے ہیں، دشمن کے کہنے پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے، دہشتگردوں کو ختم کرنے کیلئے قربانی دی جا رہی ہے، جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی، اسلام آباد میں دھاوے بولے جاتے ہیں تو ترقی نہیں ہو سکتی، امن قائم ہوئے بغیر یہ سب نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک جان میں جان ہے خوب محنت کر کے پاکستان کو عظیم بنائیں گے، ترقی پاکستان کا مقدر بن چکی ہے اگر بھارت کو پیچھے نہ چھوڑا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا نواز شریف کا وژن صرف پاکستان کی ترقی ہے، پاکستان کی معیشت اب بہتری کی جانب گامزن ہے، صحت، تعلیم، انڈسٹری کی ترقی کیلئے خادم اعلیٰ کی حیثیت سے کام کیا۔

انہوں نے کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو مہنگائی 40 فیصد پر تھی، نواز شریف کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ملک کو بچائیں یا سیاست کو دیکھیں، لیکن انہوں نے سیاست قربان کرنے اور ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا اب ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہوگا، باوقار روزگار ملے گا، صوبائی حکومتوں کےساتھ مل کر ملک کی ترقی کیلئے محنت کررہے ہیں، پاکستان قرضوں کے ساتھ ترقی نہیں کرے گا، دعا کریں قرضے ختم ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں سے ہمیں خصوصی لگاؤ ہے، پہلے میاں نواز شریف اور میں نے آپ لوگوں کی خدمت کی، اب نواز شریف کی صاحب زادی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آپ لوگوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں، ہم نے ماضی میں جو بھی منصوبے دیے،

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے کوئی احسان نہیں کیا، عوام کا پیسہ عوام پر لگایا ہے، جنوبی پنجاب نے جس طرح ہماری پارٹی اور خاندان کا ساتھ دیا ہے، اگر ساری زندگی خدمت کرتے رہیں تو بھی احسان نہیں اتار سکتے، ہم عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے