وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے اپریل تک قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس نہ بلایا تو وہ دوبارہ وفاقی دارالحکومت کا رخ کریں گے وزیر اعلی نے انضمام شدہ قبائلی اضلاع کیلئے مالی وسائل اور خالص پن بجلی کی مدد میں دو ہزار ارب روپے کے واجبات مانگ لیئے
اسلام آباد پر قومی مالیاتی کمیشن کے نئے ایوارڈ کیلئے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی کہا کہنا تھا کہ وہ اپنے صوبے کے حقوق کیلئے آخری حد تک جائیں گے
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو رمضان المبارک کے باعث رعایت دے رہے ہیں اگر اپریل میں این ایف سی کا اجلاس نہ بلایا گیا تو حکومت کو سرپرائز دیں گے
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ فاٹا میں پسماندگی بہت زیادہ ہے وفاقی حکومت نے 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم گزشتہ چھ سالوں میں 132 ارب روپے موصول ہوئے ان علاقوں میں کم ترقی کے باعث نوجوان انتہا پسندی کی طرف راغب یو رہے ہیں
