پاکستان رواں سال ہی چینی تعاون سے 5G ٹیکنالوجی سروسز متعارف کروائے گا
پاکستان 2025 کے وسط تک 5G سروسز متعارف کرانے کے لیے تیار ہے، جو ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی ڈیجیٹل معیشت اور اسمارٹ شہروں میں مہارت پاکستان کی 5G ایجادات کے لیے ایک ماڈل فراہم کر سکتی ہے۔
پاکستان اکنامک نیٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر معیز فاروق کے مطابق، 5G کنیکٹیویٹی، معاشی ترقی اور AI پر مبنی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ای کامرس، فِن ٹیک، اور آئی ٹی برآمدات کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے نمایاں فائدہ ہوگا، جس سے اسٹارٹ اپس اور کاروباری ادارے مستفید ہوں گے۔
تاہم، بنیادی ڈھانچے کی زیادہ لاگت، ریگولیٹری چیلنجز اور سائبر سیکیورٹی خدشات جیسے مسائل درپیش ہیں۔ ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن ریسرچ کے سی ای او شکیل احمد رامے کے مطابق، چین آئی سی ٹی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر کے پاکستان کی مدد کر رہا ہے، جبکہ زونگ (چائنا موبائل) پہلے ہی 5G منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت ڈیجیٹل کوریڈور کی ترقی فائبر آپٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور سائبر سیکیورٹی کو فروغ دے گی، جس سے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کو نئی بلندیوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔